اُس کے بیگ میں بہت ساری چمکتی دمکتی اسناد ہیں، جن میں سے اکثر خود اس کی تخلیق کردہ ہیں۔
انسانی حقوق کا علم بردار،
جمہوری اقدار کا محافظ،
امن اور انصاف کا نام لیوا،
ریاست ہائے متحدہ امریکا!
دنیا کی واحد سُپر پاور!!
کرۂ ارض پر ہر طرف خوف ناک ہتھیاروں کی فصل اگانے والا خدائی فوج دار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سب کا رشتے دار، انکل سام!!!
تہذیب انسانی کے فروغ میں اس ملک کے اہل علم نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے، لیکن اس میں کوئی شبہہ نہیں کہ جیفرسن کے سنہرے الفاظ وائٹ ہاؤس کی سیاہی میں غرق ہوگئے ہیں۔
طاقت کا نشہ کب اترے گا؟ جبر کی آگ کب بُجھے گی؟ کوئی نہیں جانتا۔ اس لیے کہ خوں ریزی کا ورثہ وائٹ ہاؤس میں نسل در نسل منتقل ہو رہا ہے۔ یہ ورثہ امریکا کے ناقابل تسخیر ہونے کی خوش خبری سناتا ہے، اس لیے امریکی باشندوں کی اکثریت اس سے احساسِ برتری کی شراب کشید کرتی ہے۔ پھر ان کی بلا جانے، یہ قابل فخر اعزاز راہ میں کتنے قبرستان آباد کرتا ہوا آیا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ ویت نام میں خوں ریزی کے خلاف امریکا کی سڑکیں مظاہرین سے بھر گئیں، اور وائٹ ہاؤس کو گھٹنے ٹیکنے پڑے۔ کیا یہی ایک سبب تھا؟ کچھ اور بھی تھا۔ مسلسل شکستوں نے وائٹ ہاؤس کا کچومر نکال دیا تھا، اس ضرب کا وزن کس خانے میں ڈالا جائے گا۔ فرار کا کوئی راستہ تلاش کرنا ہی تھا۔ پھر مدِمقابل ایک مضبوط بلاک تھا، جو ویت نامی حریت پسندوں کی حمایت کر رہا تھا۔ ایک غیروابستہ ممالک کی تنظیم (NAM)بھی تھی۔
اس وقت واحد سُپرپاور والی دنیا نہیں تھی۔ اور سامنے کوئی غیرمقبول آمر، صدام حسین یا معمر قذافی نہیں تھا، چاچا ہو چی من تھا، اپنے لوگوں میں آزادی کے ستارے تقسیم کرنے والا محبوب لیڈر۔
انکل سام نے کتنا خون بہایا، کتنا ظلم کیا؟
قصیدہ خواں قصیدہ خوانی کے اسباب آسانی سے تراش لیتے ہیں، ورنہ اس کے آباد کردہ اتنے سارے قبرستانوں کو کیسے بھلایا جاسکتا ہے؟
اور ’’گلشنِ صہیونیت‘‘ کی بار آوری کے جُنون کو کیسے فراموش کیا جاسکتا ہے؟
ظلم اور ناانصافی کی بدنُما تصویروں سے وائٹ ہاؤس کی دیواریں بھری پڑی ہیں۔
دنیا بھر میں 731فوجی اڈے،
بیرون ملک 236 مرتبہ فوجی حملے،
لاکھوں ریڈ انڈینز کا قتل عام، لاکھوں سیاہ فام افریقیوں کی کُھلی منڈیوں میں تجارت،
جنوبی اور وسطی امریکا اور کیریبین ممالک کے وسیع و عریض علاقوں پر مستقل قبضہ،
ہیرو شیما اور ناگاساکی کے آسمان پر موت کا لرزہ خیز رقص،
نکاراگوا سے عراق اور افغانستان تک لہو میں ڈوبے جنگی کارنامے،
درجنوں ممالک میں سی آئی اے کی غارت گری،
ناپسندیدہ حکومتوں کا تختہ الٹنے کی سازشیں،
پوری دنیا کو اپنے سامنے دست بستہ کھڑا دیکھنے کا جُنون
اور نسل پرستی، سفید نسل کی برتری کا جنُون تو اب تک امریکی معاشرے میں رقص کر رہا ہے۔
ابھی چند روز قبل چارلسٹن، جنوبی کیرولائنا، کے ایک چرچ میں سیاہ فام افریقی امریکیوں کو قتل کرنے والے جُنونی کی پرورش کون سے اسباب کر رہے تھے؟ کیا یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا۔ جنوبی کیرولائنا میں یہ نفرت نسل در نسل منتقل ہوتی رہی ہے۔
اور امریکی پولیس تو برس ہا برس سے سیاہ فام امریکیوں کو بے دردی سے ہلاک کر رہی ہے، کبھی قانون کی سربلندی کے نام پر، کبھی پولیس مقابلے کے نام پر۔
لہو کی باس وائٹ ہاؤس کو راس آتی ہے، جب ہی وہ بار بار دنیا کی مختلف سمتوں پر فوج کشی کے بہانے ڈھونڈتا ہے۔
قبرستان آباد کرنے کی تمنا اس کی دیواروں سے اُبل رہی ہے۔
ایک قبرستان ویت نام تھا، امریکا سے ہزاروں میل دور۔ خدائی فوج دار ہزاروں میل کا فاصلہ طے کرکے اس کے دروازے پر اپنا نام لکھنے کے لیے پہنچ گیا۔
دوسری جنگ عظیم میں تمام فریقوں نے مجموعی طور پر جس تعداد اور مقدار میں بم گرائے، امریکی حملہ آوروں نے ویت نام کی سرزمین پر اس سے دوگنا زیادہ بم گرائے۔
ویت نام میں 25 ملین ایکڑ زرعی زمین اور 12 ملین ایکڑ جنگلاتی زمین کو جلاکر بنجر کردیا گیا۔
پورے ملک پر 70 ملین لیٹر سے زیادہ زہریلے کیمیکلز چھڑ کے گئے۔
53 لاکھ ویت نامی سویلینز جنگی کارروائیوں کے دوران مجروح ہوئے، اور چار ملین زہریلی گیسوں کا شکار ہوئے، جو امریکی طیاروں نے ملک کے مختلف حصوں میں استعمال کیں۔
جب آخر کار امریکا ویت نام سے نکلنے پر مجبور ہوا تو وہاں دو لاکھ طوائفیں، آٹھ لاکھ اُناسی ہزار یتیم بچے، دس لاکھ بیوائیں اور ایک کروڑ دس لاکھ مہاجرین چھوڑ گیا۔
اور سب سے بڑھ کر، 38 لاکھ ویت نامی امریکا کی مسلط کردہ اس جنگ کی بھینٹ چڑھ گئے۔
امریکا میں وائٹ ہاؤس کی دیواروں سے اُبلنے والا غرور کا نشہ کم ہوتا نظر نہیں آتا۔ اسی نشے نے جنوبی کیرولائنا میں سفید نسل پرست امریکی کو سیاہ فام باشندوں کے چرچ پر حملہ کرنے کی ہوس میں مبتلا کیا۔
یہ نشہ اس وقت سر چڑھ کر بولتا ہے، جب بہت سارے امریکی وائٹ ہاؤس کی دنیا بھر میں ہونے والی جنگی کارروائیوں سے خوش ہوتے ہیں اور اس کی پُشت تھپکتے ہیں۔
یوں دنیا کے مختلف گوشوں میں وائٹ ہاؤس کے آباد کردہ قبرستانوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جاتا ہے اور وائٹ ہاؤس کا غرور اور چمکتا جاتا ہے۔
کیا دنیا بھول جائے گی کہ یہ نشہ، یہ غرور اب تک کتنا لہو پی چکا ہے۔
لہونوش کو ایک دن خاک بھی چاٹنی پڑتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
( 2جولائی 1976کو جنوبی ویت نام (جو امریکا کے پٹھو فوجی جنرل کے زیرتسلط تھا) اور شمالی ویت نام متحد ہوئے اور سوشلسٹ ری پبلک آف ویت نام کے نام سے ایک نیا آزاد ملک وجود میں آیا)
’’سیاہ‘‘ امید پر ’’سفید‘‘ آسیب کا حملہ
دنیا بھر کو انسانیت کا درس دینے والا امریکا خود نسلی امتیاز سے نجات حاصل کرنے میں ناکام نظر آتا ہے
وہ ایک ہول ناک رات تھی۔
سیاہ فام عورت دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔ آنکھوں میں خوف تھا۔ سفید آسیب دھیرے دھیرے اس کی سمت بڑھ رہا تھا۔ نسلی منافرت کی پھنکار دُور تک سنی جاسکتی تھی۔
وہ چارلسٹن میں واقع ایمینوئل افریقن میتھوڈسٹ چرچ تھا، جہاں اس رات خون پھیلا تھا۔ باردو کی بُو تھی۔
آسیب عورت کے سر پر پہنچ گیا۔ اسے موت سامنے نظر آرہی تھی، مگر اُس سفید فام شخص نے بندوق کا ٹریگر نہیں دبایا۔ پھر برف سا سرد لہجہ عورت کے کانوں سے ٹکرایا۔ ’’میں تمھیں چھوڑ رہا ہوں، تاکہ تم اوروں کو بتا سکو کہ یہاں کیا ہوا تھا۔‘‘
اس وحشی رات ایک 21 سالہ شخص ڈلن روف نے فائرنگ کرکے نو افراد کو ابدی نیند سلا دیا۔ زخمیوں کی تعداد درجنوں میں تھی۔
یہ پہلا موقع نہیں تھا، جب سیاہ فاموں کے اس گرجے پر موت نے حملہ کیا۔ یہ وہی چرچ تھا، جسے انیسویں صدی کے اوائل میں سفید فام آبادی نے اِس الزام پر نذر آتش کر دیا تھا کہ وہاں سیاہ غلام بغاوت کی سازش کر رہے تھے۔ چرچ کی بنیاد رکھنے والے ڈنمارک ویسی کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔
ڈنمارک ویسی ایک غلام تھا، جس نے لاٹری میں جیتی ہوئی رقم سے آزادی خریدی تھی۔
امریکا تو 1776 میں برطانوی چنگل سے نکل آیا، تاہم غلامی کی مکروہ رسم کے خاتمے کے لیے سیاہ فاموں کو طویل انتظار کرنا پڑا۔ 1865میں اِس پر پابندی عاید کر دی گئی، مگر ذہنوں میں بھری نفرت سے نجات حاصل کرنا دشوار ثابت ہوا۔ ہتک آمیز سلوک سیاہ فاموں کا مقدر تھا۔
کتنے ہی مقامات کی پیشانی پر لکھا ہوتا،’’سیاہ فاموں کا داخلہ منع ہے۔‘‘ پانی پینے کے لیے الگ الگ نل۔ 1963 میں جنوبی کیرولینا کی قریبی ریاست الاباما میں سیاہ فاموں کے چرچ پر حملہ۔ کچھ برس مارٹن لوتھر کنگ کا قتل۔
تاہم اب تو زمانہ بدل گیا تھا۔ یہ اکیسویں صدی تھی۔
جب ریاست کی گورنر ایک بھارتی نژاد خاتون نکی ہیلی ہو، ایک سیاہ فام عورت لورتا لینچ نے اٹارنی جنرل کا منصب سنبھال رکھا ہو، جب باراک اوباما مسند صدارت پر فائز ہو، ایسے واقعات کا رونما ہونا، اس خواب پر کاری ضرب ہے، جو امریکیوں نے آنکھوں میں سجا رکھا ہے۔
’’ہم دنیا کی عظیم ترین قوم ہیں!‘‘ ہاں، اس خواب کی عمارت کھوکھلے ستونوں پر قائم تھی۔ یہ پہلا واقعہ نہیں، جب جمہوریت اور انسانیت کے اس علم بردار کے چہرے سے نقاب اترا ہو۔ فہرست طویل ہے۔ جب آپ کے ہاں سفید فاموں کے علاوہ ہر قوم اقلیت کا درجہ رکھتی ہو، نسلی تعصب عروج پر ہو، تو پھر دنیا کو انسانیت کا درس دینا کچھ عجیب لگتا ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ امریکا اب بھی رنگ، نسل اور مذہب کی دیواروں کو توڑ نہیں سکا ہے۔
اس واقعے کے بعد امریکی صدر نے شاید پہلی بار سخت لہجہ اختیار کیا۔ کہا: ’’امریکی تاریخ پر سیاہ فاموں کو غلام بنانے کا سایہ چھایا ہے۔‘‘ وہ بندوق رکھنے کے حق پر بھی کڑی تنقید کرتے نظر آئے، لیکن کیا اس سے فرق پڑے گا۔ 2008 میں اوباما کی فتح کے بعد چارلسٹن کے سیاہ فاموں میں امید کی جو لہر تھی، وہ بے بسی میں بدل چکی ہے۔
غیرجانب دار تجزیہ کاروں کے مطابق نسلی امتیاز کو شکست دینا مشکل معلوم ہوتا ہے۔ اور وہ غلط نہیں، ڈلن روف کی جو تصاویر انٹرنیٹ پر آئیں، اُن میں بندوق کے ساتھ وہ کنفیڈریٹ پرچم کے ساتھ نظر آرہا ہے۔ یہ پرچم جنوبی ریاستوں نے خانہ جنگی کے دوران استعمال کیا تھا، جب انھوں نے غلامی کے خاتمے کے خلاف دیگر ریاستوں سے علیحدہ ہونے کی کوشش کی تھی۔ دل چسپ امر یہ ہے کہ کنفیڈریٹ پرچم اب بھی جنوبی کیرولینا کے دارالحکومت میں لہرا رہا ہے۔
مجرم فائرنگ کرنے سے پہلے ایک گھنٹے تک چرچ میں بیٹھا رہا تھا۔ وہ پوری تیاری سے آیا تھا۔ وہ اپنی دھرتی کو سیاہ فاموں سے ’’پاک‘‘ کرنا چاہتا ہے۔ اور وہ اکیلا نہیں۔ اس جیسے کتنے ہی اِس وحشت ناک سوچ کے حامل ہوں گے۔ اسی رویے کے پیش نظر جب نیویارک میں واقعے کے خلاف مظاہرے ہوئے، تو شرکا نے نعرے لگائے: ’’سیاہ فاموں کی زندگی بھی اہم ہے‘‘، ’’سیاہ فاموں کو مارنا بند کرو!‘‘
اگلے انتخابات میں صدارت کی مضبوط امیدوار وار ہیلری کلنٹن نے اپنے ایک بیان میں کہا: ’’ہم ایک بار پھر یہ سوال اٹھائیں گے کہ اس الم ناک واقعے کی وجہ کیا بنی، اور ہمیں بہ طور قوم کیا کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘
کیا ویت نام، افغانستان اور عراق میں خون کی ہولی کھیلنے والے، اسرائیل کے مظالم کی پشت پناہی کرنے والے امریکا کو یہ سوال اٹھانے کی ضرورت ہے؟
نہیں، آپ پہلے ہی جواب جانتے ہیں!
 
Top .... ....