988950_830015743740125_5203471019968398855_n
باوثوق ذرائع کا دعویٰ ہے کہ لاہور کے حالات نائن زیرو پر چھاپے کے ردعمل میں خراب کرائے گئے ۔ چرچ دھماکوں اور شہر میں پُرتشدد احتجاج میں متحدہ کے ملوث ہونے کے شواہد مل گئے ہیں ، جسے بھارتی خفیہ ایجنسی ’’ را‘‘ کی معاونت حاصل تھی ۔ لوٹ مار کرنے والوں میں ایک بڑی تعداد کو ٹریکٹر ٹرالیوں پر باہر سے لایا گیا ۔ مقامی مسیحی قیادت نے بلوائیوں کو شناخت کر لیا ہے اور جلد ان شرپسندوں کی گرفتاریاں متوقع ہیں ۔ اسپیشل برانچ کی آفیشل رپورٹ وزیراعلیٰ اور دیگر اعلیٰ حکام کو پیش کر دی گئی ہے ، جس میں پولیس کی نااہلی کا بھی ذکر کیا گیا ہے ۔ پولیس افسران نے انٹیلی جنس اور ایجنسیوں کی وارننگز کو نہ صرف نظر انداز کیا ، بلکہ دھماکوں کے فوری بعد شہر کے حالات کنٹرول کرنے میں بھی کوئی خاص دلچسپی نہیں لی ، حالانکہ اس وقت تک مقامی مسیحی قیادت خود پولیس سے تعاون کر رہی تھی ۔


لاہور پولیس کے انٹیلی جنس ونگ کے اعلیٰ سطح کے ذمہ دار نے دو ٹوک الفاظ میں بتایا کہ لاہور میں جو کچھ ہورہا ہے ، یہ نائن زیرو پر چھاپے کا ردعمل ہے ۔ اسپیشل برنچ کی آفیشل رپورٹ میں جو وزیراعلی اور دیگر اعلیٰ حکام کو پیش کی گئی ہے ، کہا گیا ہے کہ کراچی میں نائن زیرو پر چھاپے کے ردعمل میں متحدہ نے پڑوسی ملک کی مدد سے یہ منصوبہ تیار کیا ، ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ چرچ پر حملے اور اس کے بعد پُرتشدد واقعات ایک ہی منصوبے کا حصّہ ہیں اور اس کا مقصد پاکستان کو ایک سخت ردعمل سے دوچار کرنا اور میڈیا کی توجہ کراچی سے ہٹانا ہے ، جس میں منصوبہ ساز کامیاب رہے ہیں ، اسپیشل برانچ میں موجود ایک اور ذریعے نے تصدیق کی ہے کہ لاہور کے حالات خراب کرانے میں متحدہ اور اس کے سرپرست ملوث ہیں ۔

س ذریعے نے مزید بتایا کہ لاہور واقعات سے قبل الطاف حسین کی جانب سے اپنی تقریر میں چرچ پر حملوں کے بے موقع ذکر کا سیکورٹی اداروں نے خاص نوٹس لیا تھا ۔ بعد ازاں نائن زیرو سے گرفتار دہشت گردوں سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر یہ انتباہ پورے ملک میں جاری کر دیا گیا تھا کہ متحدہ کے مرکز پر آپریشن کا ردعمل سامنے آئے گا اور یہ کہ مسیحی برادری کو ٹارگٹ کیا جاسکتا ہے ۔ ذریعے کے مطابق پولیس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ردعمل اس قدر جلد اور لاہور میں آئے گا ۔ یہی سبب ہے کہ پولیس نے نہ صرف یہ کہ سیکورٹی میں غفلت کا مظاہرہ کیا ، بلکہ دھماکوں کے بعد حالات کنٹرول کرنے میں ناکام رہی ۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق پولیس نے دانستہ حالات کنٹرول میں کرنے میں دلچسپی نہیں لی ۔

ایس ایس پی عمر ورک خود فورس کے ساتھ جائے وقوعہ پر موجود تھے ، مگر انہوں نے مشتعل مظاہرین کو روکنے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا ۔ چار بجے تک شرپسندوں کو کھلی چھٹی دیئے رکھی ۔ پولیس کے اس رویے پر ایس ایس پی سطح کے افسر کا کہنا ہے کہ ماڈل ٹاون کے واقعے پر سیاسی قیادت نے جس طرح خود کا ایک طرف کرکے تمام ذمہ داری پولیس پر ڈال دی تھی ، اس کے بعد کوئی بھی پولیس افسر ہجوم کو کنٹرول کرنے میں ایک حد سے آگے بڑھ کر رسک لینے کو تیار نہیں ۔ 
ایک اور انٹیلی جنس سورس کے مطابق معاملہ صرف پڑوسی ملک تک محدود نہیں ہے ۔ متحدہ پر سرمایہ کاری کرنے والی بعض مغربی این جی اوز نے حق نمک ادا کیا ہے ۔

تصاویر اور فوٹیج میں ان کی واضح شناخت ہوگئی ہے ۔ ان ذرائع نے بتایا کہ دھماکے کے بعد ایسے لڑکے بڑی سرعت کے ساتھ علاقے میں پھیل گئے تھے ، جن کے پاس ایک ہی سائز کے کٹے ہوئے سریے تھے ، جنہوں نے توڑ پھوڑ شروع کر دی ۔ اس وقت مقامی مسیحی قیادت پولیس سے رابطے میں تھی اور وہ خود تشویش کا شکار تھے کہ ہنگامہ آرائی کرنے والے لوگ کون ہیں ۔ بعد ازاں نادرا ریکارڈ کے ذریعے انکشاف ہوا کہ شر پسندوں میں سے کئی ایک تو مسیحی بھی نہیں تھے ۔ اس سوال پر کہ متحدہ کے پاس لاہور میں اتنی افرادی قوت کہا سے آگئی ؟ ان ذرائع کے مطابق فوٹیج میں شناخت ہوئی ہے کہ مظاہرین میں وہ لوگ نمایاں ہیں ، جنہیں متحدہ اکثر پیسے دے کر اپنے لاہور کے جلسوں میں لایا کرتی تھی ۔
ان شرپسندوں نے ہی ابتدا کی اور احتجاج کو بلوے کا رخ دیا ۔ اس کے بعد اردگرد کی مسیحی بستیوں سے نامعلوم لوگ اعلانات کرکے لوگوں کو ٹریکٹر ، ٹرالیوں پر لاتے رہے ۔ جس کے بعد بڑے پیمانے پر لوٹ مار شروع ہوگئی ۔ بتایا گیا ہے کہ بریلوی مکتب فکر سے تعلق رکھنے والی دو مساجد پر بھی حملہ کیا گیا ، جس کے بعد پنجاب حکومت رینجرز کو بلانے پر مجبور ہوئی ۔ 
اطلاعات کے مطابق ایک شرمناک منظر بھی ریکارڈ پر آیا کہ بعض لوگ جلتے ہوئے انسانوں کے پاس کھڑے ہوکر تصاویر بنواتے رہے ۔ اسی طرح لوٹ مار کرنے اور گاڑیاں توڑنے والے بھی اپنی تصاویر اہتمام سے بنواتے رہے ۔

ذرائع کے مطابق این جی اوز کے لوگ اور بلوائیوں کا مطالبہ تھا کہ لاشیں سڑک پر لا کر ایک بڑی خبر بنائی جائے ، مگر بروقت اطلاع مل جانے پر حکومت نے ورثا سے رابطہ کیا اور ان کے لیے بلوائیوں کی بات نہ ماننے کو ممکن بنایا ۔ دستیاب فوٹیج اور تصاویر سے تمام بلوائیوں تصاویر نکال کر ان کا ریکارڈ حاصل کر لیا گیا ہے ۔ چھاپہ مار کارروائیوں کے لیے نفری کے دستے بھی تشکیل دیئے جا چکے ہیں اور کسی بھی لمحے آپریشن شروع کر دیا جائے گا ۔

 
Top .... ....